سیلاب سے ایک نیا خطرہ

بارودی سرنگ وارننگ

سیلاب میں بہہ جانے والی باردوی سرنگوں اورگولہ بارود کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے

پاکستان میں سیلاب اور بارشوں سے لائن آف کنڑول اور جنوبی وزیرستان سے بارودی سرنگیں اور ایسا گولہ بارود جو آپریشن کے دوران پھٹ نہیں سکا تھا بہہ کر شہری آبادی میں آ گیا ہے جس سے متاثرہ علاقوں میں جانی نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بارودی سرنگوں سے متاثرہ علاقے پہلے سے ہی تھے لیکن حالیہ سیلاب کی وجہ سے ایسے علاقے جہاں فوجی کارروائی جاری ہے یا حال ہی میں ختم ہوئی ہے ایسا گولہ بارود جو استعمال ہونے کے باوجود کسی وجہ پھٹ نہیں سکا اب بہہ کر شہری آبادیوں میں آ گیا ہے۔

اسی طرح کشمیر میں لائن آف کنٹرول سے بارودی سرنگیں سیلابی پانی میں بہہ کر دوسرے علاقوں میں آ گئی ہیں۔

آئی سی آر سی کی ترجمان ستارہ جبین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بھی دیگر ممالک میں ایسا ہوا ہے کہ فوجی آپریشن والے علاقوں سے سیلاب کے نتیجے میں گولہ بارود ایک بڑے علاقے میں پھیل گیا جس سے کافی نقصان ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ان باردوی سرنگوں اور گولہ بارود کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لیکن ایسے لوگ جو اپنے علاقوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں اور اب واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں ان لیے یہ زیادہ باعث تشویش ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ متاثرہ لوگوں کو اپنے علاقوں میں جانے سے پہلے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہاں اس قسم کا گولہ بارود موجود ہے تا کہ وہ اپنی جان بچا سکیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اسلحہ بہہ کر آبادیوں میں آ گیا ہے اور اس بارے میں ان علاقوں میں تعینات فوج، سول انتظامیہ اور پولیٹکل حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کریں اور ندی نالوں کے اطراف کا جائزہ لیں اور باردوی مواد اکٹھا کریں۔

متاثرہ لوگوں کو اپنے علاقوں میں جانے سے پہلے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ وہاں اس قسم کا گولہ بارود موجود ہے تا کہ وہ اپنی جان بچا سکیں۔

ستارہ جبیں، آئی سی آر سی

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ’ ایسے علاقوں میں تا حال بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور بارشیں تھمنے کے بعد ہی اندازہ ہو سکے گا کہ کتنا کچھ بہہ کر آیا ہے اور اکٹھا ہوا ہے۔‘

باردوی سرنگوں کے خطرات سے آگاہی کے حوالے سے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ایس پی اے ڈی او کے سربراہ رضا شاہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وادی سوات اور جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے دوران بادروی سرنگوں کا استعمال کیا گیا تھا۔

’حالیہ سیلاب میں جنوبی وزیرستان سے بارودی سرنگیں اور کارروائی کے دوران کسی وجہ سے نہ پھٹنے والا گولہ بارود بہہ کر ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے علاقے میں آ گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب تک ان علاقوں میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے چار واقعات پیش آ چکے ہیں۔

اس طرح کا پہلا واقعہ جولائی کے آخر میں ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے میں پیش آیا جب خواضہ بی بی سیلاب سے متاثرہ علاقے میں لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھیں کہ ان کا پاؤں ایک اینٹی پرسنیل مائن ( بارودی سرنگ) پر پڑا جس سے ان کی دائیں ٹانگ ضائع ہو گئی۔

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل یاراک میں نو اگست کو تین بچوں نے ایک بارودی سرنگ کو کھلونا سمجھ کر اٹھایا تو یہ پھٹ گئی اور تینوں بچے شدید زخمی ہو گئے۔

بعض علاقوں میں اب تک میڈیا اور ان کی ٹیموں کی رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات کی اطلاعات نہیں ملتی ہیں

رضا شاہ خان

انھوں نے کہا کہ ’بعض علاقوں میں اب تک میڈیا اور ان کی ٹیموں کی رسائی نہیں ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات کی اطلاعات نہیں ملتی ہیں۔‘

رضا شاہ خان نے کہا کہ بارودی سرنگ اس وقت تک ڈیڈ یا ناکارہ نہیں ہوتی جب تک اس کو خود ناکارہ نہ کیا۔ ’خدشہ ہے کہ آگاہی نہ ہونے کے سبب ان کے پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ ان کو چھونے سے یہ فوراً پھٹ جاتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب تک واقعات میں بچے اور خواتین ایسے مواد سے متاثر ہوئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تیرہ اگست کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کوکار میں ان کی ٹیم مختلف تصاویر کے ذریعے باردوی سرنگوں کے خطرات سے مقامی آبادی کو آگاہ کر رہے تھے کہ ایک مقامی شخص نے بادروی سرنگ کی تصویر دیکھ کر کہا کہ ایسی کی ایک باردوی سرنگ ان کے گھر کے قریب پانی میں پڑی ہے۔ جسے بعد میں بم ڈسپوزل سکواڈ کی مدد سے ڈی فیوز کیا گیا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافاتی علاقے میں بارودی سرنگ سے متاثر ہونے والے بچے

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں سال دو ہزار نو میں بارودی سرنگوں کے پھٹنے کے واقعات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق چار سو اکیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ ہلاکتیں شامل نہیں ہیں جو ریموٹ کنٹرول کےذریعے پھٹنے والی باردوی سرنگ سے ہوئی ہیں۔

رضا شاہ خان نے بتایا کہ ان کا ادارہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف اور بین الاقوامی ادارے مائنز ایڈوائزری گروپ کے ساتھ پہلے ہی بارودی سرنگوں کے حوالے سے سوات، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آگاہی مہم چلا رہا تھا لیکن اب ’سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے متاثرہ علاقوں میں آگاہی مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ آفت زدہ علاقوں میں غریب لوگ آباد ہیں اور ایسی صورتحال میں اگر بارودی سرنگ کے واقعے میں کسی خاندان کا کوئی فرد اپاہج ہو جاتا ہے تو ان پر مزید بوجھ پڑے گا۔

’ ایسے متاثرہ لوگوں کی بحالی کے لیے نہ تو حکومت اور نہ ہی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے پاس کو منصوبہ تھا‘۔ ’ موجودہ صورتحال میں ایسے لوگوں کے لیے حکومت کو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر فوری طور پر ایک جامع منصوبہ شروع کرنا ہو گا۔

bbc.co.uk navigation

BBC © MMX

بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔